کرپٹو کرنسی کیا ہےاور یہ کیسے کام کرتی ہے

ہم اکژوبیشتر کرپٹوکرنسی کا نام سنتے ہیں مگر ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اس کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں ۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کرپٹو کرنسی کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے ۔ مزید ہم اس کے فوائد اور نقصانات پر بھی نظر ڈالیں گے ۔ سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی کیا ہے ۔

کرپٹو کرنسی کی حقیقت

کرپٹو کرنسی دراصل رقم کی مجازی شکل ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اسے برقی رقم بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اسے کرپٹوگرافی کی ٹیکنیک کے ذریعے محفوظ بنایا جاتا ہے ۔ کرپٹو گرافی کی وجہ سے اسکا دہرا استعمال ناممکن ہے ۔ کوئی بھی صارٖف ایک برقی سکے کو ایک ہی وقت میں دو جگہ استعمال نہیں کر سکتا ۔ یعنی عام کرنسی کی طرح اس کی نقل ےا جعلی کرنسی نہیں بن سکتی نہ ہی یہ عام کرنسی کی طرح بینکوں کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہے ۔ اسکا کوئی ایک مرکز نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک نیٹ ورک میں مختلف کمپیوٹروں پر محفوظ ہوتی ہے ،اس لئے کوئی ایک شخص اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا ۔ کرپٹو کرنسی پبلک اور پرائیویٹ کلید کے استعمال سے براہ راست ایک فرد سے دوسرے فرد کو منتقل کی جا سکتی ہے ۔

کرپٹو کرنسی کیسے کام کرتی ہے

کرپٹوکرنسی کا سسٹم آن لائن محفوظ ادائیگیوں کاضامن ہے اور ورچوئل ٹوکن اس کی نمایاں شکل ہے جو سسٹم میں اندرونی لیجر میں اندراجات کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ کرپٹو کی اصطلاح انکرپشن الگورتھم اور کرپٹوگرافک تیکنیک کے لئے استعمال ہوتی ہے جو ان ادائیگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے ستعمال ہوتی ہیں مثلاً عوامی ۔ نجی کلیدی جوڑے، ہیشنگ افعال اور بہت سے انکرپشن الگورتھم وغیرہ ۔ اندرونی لیجر میں اندراج کے لئے بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔

کرپٹو کرنسی کی اقسام

کرپٹو کرنسی کا سب سے پہلا سسٹم بٹ کوئن کے نام سے شروع کیا گیا ۔ یہ کرپٹوگرافک تیکنیکوں کے ذریعے محفوظ بنایا گیا ۔ اس کی بنےاد بلاک چین ٹیکنالوجی پر ہے ۔ یہ آج بھی سب سے مہنگی او ر مقبول کرپٹو کرنسی ہے ۔ بٹ کوئن کی کامےابی کو دیکھتے ہوئے اور بھی کرپٹو کرنسی سسٹم بنائے گئے جن کو آلٹ کوئن کا نام دیا گیا ۔ ایتھیریم، کوئن بیس ، نیگزالٹ اور بہت سی متبادل کرپٹو کرنسیاں مارکیٹ میں موجود ہیں ۔

کرپٹو کرنسی کے فوائد

کرپٹو کرنسی کے پاس بینک یا کریڈٹ کارڈ کمپنی جیسے کسی قابل اعتماد فریق کی ضرورت کے بغیر دو پارٹیوں کے مابین رقوم کو منتقل کرنا آسان بنانے کا وعدہ ہے ۔ یہ ادائیگیاں عوامی اور نجی کلید اور مختلف مراعات کے نظاموں جےسے پروف آف ورک ےا پروف آف سٹیک کے استعمال سے محفوظ بنائی گئی ہیں ۔ جدید کرپٹو کرنسی سسٹم میں صارف کے بٹوے یا اکاءونٹ کا پتہ ایک عوامی کلید میں رکھا جاتا ہے ۔ جبکہ نجی کلید صرف مالک کو ہی معلوم ہوتی ہے ۔ یہ دونوں کلید لین دین پر دستخط کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں ۔ کم سے کم پروسیسنگ فیس کے ساتھ رقم کی منتقلی مکمل ہو جاتی ہے ۔ اس کی مدد سے صارفین بینکوں اور مالیاتی اداروں کی طرف سے عائد بھاری فیسوں سے بچ جاتے ہیں ۔

کرپٹو کرنسی کے نقصانات

س لین دین کی نیم گمنامی نوعیت اسے غیر قانونی سرگرمیوں جیسے کہ منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے لئے موزوں بنا دیتی ہے ۔ بہر حال اس کے وکلاء شناخت ظاہر نا ہونے کو اک خوبی قرار دیتے ہیں اور جابرانہ حکومتوں کے تحت رہنے والے انقلابیوں کے لئے اسے مددگار سمجھتے ہیں ۔ کچھ کرپٹو کرنسیاں مقابلتاً زیادہ نجی یا محفوظ ہوتی ہیں ۔

مثال کے طور پربٹ کوئن ،آنلائن غیرقانونی کاروبار کرنے کے لئے نسبتاً ناقص انتخاب ہے کیونکہ بٹ کوئن بلاک چین کے فرانزک تجزیئے سے حکام کو مجرموں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں مدد ملی ہے ۔ ہیکرز کا خطرہ بھی موجو د رہتا ہے اگرچہ کمپنیاں سخت حفاظت کی پوری کوشش کرتی ہیں ۔ سسٹم ہیک ہونے کی صورت میں آپ کے کرپٹو فنڈز ضائع ہو سکتے ہیں ۔

امید ہے کہ اس تحریر سے آپ کی معلومات میں کچھ اضافہ ضرور ہوا ہو گا ۔ آپ کی مزید آسانی کے لئے یہاں پرپال اور نیگزالٹ کا ذکر کریں گے ۔ یہ دونوں پلیٹ فارم آپ کو کرپٹو کرنسی میں محفوظ سرمایہ کاری اور خرید و فروخت کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ ان کا صارف انٹرفیس بہت آسان ہے اور صارفین کا ڈیٹا اور تمام ٹرانزیکشنز انتہائی محفوظ ہیں ۔ نیز ایسے صارفین جو کرپٹو کرنسی کا شوق رکھتے ہیں مگر خود اس میں کام نہیں کر سکتے ، ان کے لئے بھی مناسب پیکیج اور سسٹم موجود ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے پرپال اور نیگزالٹ کو ضرور ملاحظہ کریں ۔

Entrepreneur Asked on November 8, 2019 in PrPal Urdu.
Add Comment
0 Answer(s)

Your Answer

By posting your answer, you agree to the privacy policy and terms of service.